ہم
ہر وقت یہی کہتے اور ایک دوسرے کا منہ توڑتے ہیں کہ
"جو کوئی سوچتا ہے
، اسے ویسا ہی دِکھتا ہے، کیسا ہمارا منافقت سے لبریز جواب ہوتا ہے،"
ابھی
بھی میری دکان کے بالکل سامنے قریباََ سو
میٹر کے فاصلے پہ کچھ مزدور بیٹھے ہیں کہ کوئی آدھی دھاڑی پہ ہی مزدوری کیلئے لے
جائے، کوئی دوسوتین سو پہ ہی لے جائے،