روزہ کس کا قبول؟
سن لو! روزے رکھنے والے بہت ہوتے ہیں اگرچہ مجموعی اعتبار سے کم ہیں… اور روزے رکھنے والوں میں، قیام کرنے والے ویسے ہی کم ہوتے ہیں لیکن ان روزے رکھنے اور قیام کرنے والوں میں سے بھی کس کی عبادت قبول ہوگی؟ کس کا
روزہ اس کی نجات کا سبب بننے والاہوگا؟ کس کا قیام اس کو عرشِ الٰہی کے سائے میں کھڑا کرنے والاہوگا؟ کس کی پیاس اسے حوضِ کوثر سے پانی پلانے والی ہوگی؟ کیا سب روزے داروں کی؟ سب بھوک پیاس برداشت کرنے والوں کی؟ سب قیام کرنے والوں کی ؟ نہیں۔
قرآن کہتا ہے صرف اُن کی جن کے عقیدہء توحید میں کوئی خلل موجود نہیں۔ سن لو! ایک کلمہ گو سارے کام کرے، حج کرے، زکوٰۃ دے، نماز پڑھے، روزہ رکھے، رات کو قیام کرے اور پھر بارگاہِ ربانی میں زیادہ نہیں تھوڑا سا، معمولی سا شرک بھی کرے۔ ہائے اللہ تیری قدرتوں پر قربان… یہ روزے، یہ حج، یہ زکوٰتیں، یہ صدقات، یہ خیرات… اُنکی نبوت کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے؟ رسالت و نبوت کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ عرش والے نے نبوتوں کا نام لے کر فرمایا:" تھوڑا سا شرک کرلیں تو نبوتیں بھی اکارت ہوجائیں، رسالتیں بھی ضائع ہوجائیں" اگر رب کی توحید میں تھوڑے سے خلل سے رسالت بھی کام نہیں آتی تو تیرا روزہ اور قیام کہاں کام آئے گا؟ سن لے! اگر چاہتا ہے کہ اﷲ کی بارگاہ میں تیری عبادت کی قیمت پڑے توتُو جس اللہ کیلئے عبادت کرتا ہے، اُسکے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا گوارا نہ کرنا۔ سبب کیا ہے؟ اسکا سبب یہ ہے کہ جب سچائی میں جھوٹ کی آمیزش ہوجاتی ہے تو سچائی مٹ جاتی ہے، جھوٹ نہیں مٹتا۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جھوٹ اور سچ مل جائے تو جھوٹ مٹ جاتا ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے:" نہیں۔ پلیدی اور پاکیزگی مل جائے تو پلید ی نہیں مٹتی، پاکیزگی مٹ جاتی ہے" ایک من دودھ کا مٹکا اوردس قطرے پیشاب کے۔ اس سے کیامِٹا؟ ایک من دودھ کی پاکیزگی مٹ گئی اور دس قطرے پیشاب کی پلیدی غالب آگئی۔ ساری زندگی کے اعمال جو بھی اللہ کی رضا حاصل کرنے کیلئے کئے تھے، سب مٹ گئے، شرک غالب آگیا۔ قرآن نے کہا: {لَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ} [الانعام:٨٨](اور اگر یہ بھی اللہ کا ساجھی بناتے تو ان کا بھی کیا کرایا سب اکارت جاتا)
قرآن کریم
نے اٹھارہ نبیوں کا نام لے کے کہا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسمٰعیل، حضرت
اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت والیسع، حضرت ذالکفل، حضرت ادریس، حضرت زکریا، حضرت یونس
، حضرت ایوب علیہم السلام اور دیگر، ان سب کا نام لے کر فرمایا: {لَوْ اَشْرَکُوْا
لَحَبِطَ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ} [الانعام:٨٨]ان اٹھارہ جلیل القدر نبیوں سے رتی
بھر شرک ہوجاتا تو نبوتیں بھی مٹ جاتیں۔ یہ تو اٹھارہ تھے۔ اب ان اٹھارہ کے امام
کا نام لیا۔ کن کے امام کا نام لیا؟
فرمایا یتیم مکہﷺ جس کو میں نے حوضِ کوثر کا والی بنایا ہے۔ آپ بھی سن لو؟ {لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ } [الزمر:٦٥](اگر تم شرک کرو گے تو تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور تم نقصان اُٹھانے والوں میں ہو جاؤ گے)
فرمایا یتیم مکہﷺ جس کو میں نے حوضِ کوثر کا والی بنایا ہے۔ آپ بھی سن لو؟ {لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ } [الزمر:٦٥](اگر تم شرک کرو گے تو تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور تم نقصان اُٹھانے والوں میں ہو جاؤ گے)
آپ ﷺ سید الانبیاء ہیں، آپ ﷺ سرورکونین ہیں، آپ ﷺ رسول ثقلین ہیں، اگر آپ ﷺ بھی شرک کا ارتکاب کر لیں تو آپ ﷺ کی بھی قیادت و سیادت چھین لی جائے گی۔ ہماری نمازیں، ہمارے روزے، ہمارے حج، ہماری زکوٰتیں، ان کی سید الانبیاء ﷺ کے مقابلے میں قدر و قیمت کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ کوئی نسبت ہی نہیں۔ قیامت تک کے لیے آنے والے مسلمانوں کی عبادتوں کی ان کے مقابلے میں کوئی وقعت ہی نہیں۔ روزہ اس کا ہے، بھوک پیاس اس کی ہے، راتوں کا قیام اُس کا ہے جو غیر اﷲ کی بارگاہ میں گردن جھکانا گوارا نہیں کرتا۔




No comments:
Post a Comment